
اسپیس ایکس نے دو ناکامیوں کے بعد تیسری بار اسٹارشپ راکٹ کا کامیابی سے آغاز کیا۔
دو ناکامیوں کے بعد اسپیس ایکس نے تیسری بار، نیکسٹ جنریشن اسٹارشپ راکٹ کو امریکی ریاست ٹیکساس سے لانچ کر دیا ہے۔ راکٹ کی پہلی دو آزمائشوں میں فضا میں اڑان بھرنے کے کچھ منٹ بعد ہی پھٹ گیا تھا۔ اسٹارشپ راکٹ کا مقصد خلانوردوں کو چاند اور اس سے آگے لے جانا ہے۔ پچھلے 20 اپریل اور 18 نومبر 2023 کو لانچ کیے گئے اسٹار شپ کو بھی ناکامی کا سامنا ہوا تھا۔
20 اپریل کو راکٹ اڑان بھرنے کے 4 منٹ بعد پھٹ گیا تھا، جبکہ 18 نومبر کو لانچ کیے گئے اسٹار شپ کی پرواز چند منٹ تک جاری رہی، اور لانچ کے 8 منٹ بعد اس سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ اس پرواز کے دوران راکٹ اسپیس کرافٹ زمین کے مدار تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا، اور جب وہ دھماکے سے پھٹا تو سطح زمین سے 92 میل کی بلندی پر تھا۔
اسپیس ایکس کا مقصد اسٹار شپ کو انسانوں کو مریخ پر لے جانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ اسٹار شپ میں ایک سپر ہیوی بوسٹر اور ایک اسپیس کرافٹ شامل ہیں، جن کی مدد سے چاند کی سطح پر پہنچایا جا سکے۔
ایلون مسک نے اسٹار شپ کے ذریعے انسانوں کو مریخ پر لے جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے، اور کہا ہے کہ بعد ازاں انسانوں کو اس پر سوار کرایا جائے گا۔ ناسا نے بھی اسپیس ایکس کے ساتھ معاہدہ کیا ہے، تاکہ انسانوں کو چاند کی سطح پر پہنچایا جا سکے۔ اس راکٹ کا وزن 50 لاکھ کلوگرام ہے، اور اسے بار بار استعمال کرنا ممکن ہوگا۔
ٹریفک وارڈن پولیس نے ماہانہ کارکردگی کی رپورٹ جاری کی، 5253 چالان کئے گئے۔