
ہری پور (ہم گواہ) شاہد اختر اعوان صدر ورکنگ جرنلسٹ پینل نے کہا ہے کہ میرا مقصد الیکشن جیت کر کرسی حاصل کرنا نہیں بلکہ صحافی برادری کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنا تھا، مگر بدقسمتی سے نااہل اور سیاستدانوں کی انگلی پکڑ کر چلنے والے افراد نے صحافت کو صرف ذاتی شلٹر بنا رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال الیکشن عدالت کے حکم پر ہوئے تھے، لیکن سیاسی مداخلت کے باعث جیتنے والا پینل آج پریس کلب کے اندر قدم رکھنے کی جرات نہیں رکھتا۔ جیتنے کے باوجود ان کی خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ بزدل ہیں، کیونکہ وہ اس ڈی پی او کے ساتھ بیٹھ کر چائے اور بسکٹ تو کھاتے ہیں، مگر اس پر سوال نہیں اٹھاتے جس کے دور میں ایک صحافی پر جھوٹی ایف آئی آر درج کر کے اسے ہتھکڑی لگائی گئی اور بدنام کیا گیا۔شاہد اختر اعوان نے انکشاف کیا کہ میرے خلاف دونوں گروپ متحد ہو چکے ہیں، مگر میں نے نہ پہلے کوئی غلط کام کیا اور نہ آئندہ کروں گا۔ صرف تین ہفتوں میں میرے خلاف دو درخواستیں پولیس کے پاس آئیں، جن کا جواب دینے کے لیے میں اپنی ٹیم کے ساتھ دو مرتبہ تھانہ سٹی گیا۔ دونوں درخواست گزاروں کے خلاف قانونی جنگ لڑوں گا۔
