
ہری پور (نمائندہ خصوصی) ورکنگ جرنلسٹ گروپ کے صدر شاہد اختر اعوان نے تھانہ سٹی میں ان کے خلاف دی گئی درخواست کو جھوٹ پر مبنی اور صحافت پر حملہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ایک شخص نہ صرف گدھے کا گوشت کھانے کی ترغیب دے رہا تھا بلکہ اسے "ذمہ دار شہری بننے کا ذریعہ” بھی قرار دے رہا تھا۔شاہد اختر اعوان کا کہنا تھا کہ "ایسے غیر اسلامی، غیر اخلاقی اور لغو خیالات کی نشاندہی کرنا اگر جرم ہے تو میں یہ جرم بار بار کروں گا، کیونکہ سچ دکھانا میرا پیشہ اور فرض ہے”۔انہوں نے کہا کہ حیرت انگیز طور پر یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ "گدھے کا گوشت انسان میں ذمے داری کا بوجھ اٹھانے کی طاقت پیدا کرتا ہے”۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ایسے بے بنیاد اور اسلامی تعلیمات کے خلاف خیالات کو بے نقاب کرنا جرم بن گیا ہے؟✦ حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

"نَهى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ”
(صحیح بخاری: حدیث 5520، صحیح مسلم: 1940)
ترجمہ: نبی کریم ﷺ نے خیبر کے دن پالتو گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرمایا۔یعنی پالتو گدھے کا گوشت کھانا صریحاً حرام ہے اور اس کی ممانعت صحیح احادیث میں واضح طور پر موجود ہے۔شاہد اختر اعوان نے زور دے کر کہا کہ "ایسے شخص کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے جو سوشل میڈیا پر اسلامی احکام کی توہین کر رہا ہے، نہ کہ اُس صحافی کے خلاف جو اس گمراہی کو بےنقاب کرتا ہے۔”انہوں نے مطالبہ کیا کہ پولیس ایسے مذہبی اور معاشرتی حساس موضوعات پر صحافیوں کے بجائے اصل کرداروں کے خلاف کارروائی کرے، تاکہ نہ صرف قانون بلکہ دینِ اسلام کی حرمت بھی محفوظ رہ سکے۔