
ہری پور معروف سوشل ایکٹوسٹ اور صحافی ناہید اختر، جن کا تعلق ضلع ہری پور کی تحصیل خانپور کے نواحی گاؤں پدنی سے ہے، کی حوالات میں بند تصویر خانپور پولیس کے افسران نے وائرل کی۔ اگلے دن انہیں ہتھکڑیاں لگا کر ہری پور پولیس کے آفیشل پیج پر ڈی پی او آفس سے لی گئی تصویر کے ساتھ شیئر کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق، ناہید اختر کی اس طرح کی تشہیر کے پیچھے کچھ ایسے صحافیوں کا ہاتھ ہے جو موجودہ صوبائی حکومت سے فوائد حاصل کر رہے ہیں۔ ان افراد نے سوشل میڈیا پر پولیس کے حق میں مہم چلا کر ناہید اختر کے خلاف پروپیگنڈا کیا۔ اس کی ممکنہ وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ پولیس نے حال ہی میں ہری پور پریس کلب کے ایک متنازعہ معاملے میں غیر آئینی طور پر ایک مخصوص گروپ کی حمایت کی، جبکہ ناہید اختر مخالف گروپ کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھتی تھیں۔
ناہید اختر کی قریبی وابستگی ڈیموکریٹک جرنلسٹ پینل کے عہدیداروں اور ووٹرز کے ساتھ بتائی جاتی ہے، جس کے باعث ہری پور کے صحافتی حلقوں میں اس معاملے پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ صحافی برادری یہ سوچ رہی ہے کہ ماضی کی طرح اس بار بھی ذاتی انا کی جنگ میں دونوں گروپوں کی مخالفت کا اصل فائدہ مخصوص کاروباری افراد اور پاکستان تحریک انصاف کی مقامی قیادت کو ہو رہا ہے، جبکہ نقصان ہری پور کے ورکنگ جرنلسٹ، عام شہریوں اور ان اداروں کو پہنچ رہا ہے جہاں سیاسی مداخلت بڑھ رہی ہے۔
اس صورتحال پر سابقہ امیدوار برائے صدر ہری پور پریس کلب، شاہد اختر اعوان، نے ناہید اختر کے گاؤں میں صحافیوں سے ملاقات کی اور اس تشویشناک معاملے پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صحافتی برادری کو آپسی اختلافات بھلا کر آزادی صحافت اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ کے لیے متحد ہونا چاہیے۔
یہ معاملہ ہری پور کے صحافیوں کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکا ہے، جہاں ایک طرف آزادی صحافت کا سوال ہے اور دوسری جانب سیاسی دباؤ اور ذاتی مفادات کے کھیل نے صحافتی اقدار کو داؤ پر لگا دیا ہے۔


